کرسمس کی مبارکباد دینے اور اس میں شرکت کا حکم
فتوی
‼️ *افسوس ناک صورتحال:*
ہر سال پچیس دسمبر کو عیسائی کرسمس کے نام سے اپنا مذہبی تہوار مناتے ہیں، جس کی تفصیل ذکر کرنے کی ضرورت نہیں، البتہ زیرِ نظر تحریر میں جس افسوس ناک پہلو کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے وہ یہ ہے کہ بہت سے مسلمان بھی کرسمس کی اس خالص عیسائی مذہبی تہوار کی مبارک باد دیتے ہیں حتی کہ اس کی تقریبات میں شرکت بھی کرتے ہیں، یہ ساری صورتحال مسلمانوں کی دینی غیرت کے خلاف ہے، جس کا احساس ہر ایک مسلمان کو ہونا چاہیے۔ ظاہر ہے کہ دینِ اسلام جیسے حق، افضل ترین اور کامل دین سے وابستہ مسلمانوں کو دیگر ادیان کی مذہبی تہواروں سے کوئی دلچسپی اور تعلق ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔
📿 *مسلمان ہر قدم پر دینی احکامات کا پابند ہے!*
حقیقت یہ ہے کہ مسلمان زندگی کے ہر قدم پر دین اسلام کی تعلیمات کا پابند ہے، کوئی بھی کام کرنے سے پہلے اسے یہ ضرور کرنا چاہیے کہ وہ اس کام سے متعلق اہلِ علم حضرات سے پوچھ لے کہ یہ کام دینی اعتبار سے درست ہے بھی یا نہیں، دینِ اسلام اس کی اجازت دیتا بھی ہے یا نہیں۔ ہر مسلمان کو اس دینی پابندی پر فخر ہونا چاہیے، ظاہر ہے کہ وہ دنیا میں اسی پابندی کو نبھانے آیا ہے اور اسی پر آخرت کی ابدی زندگی کی کامیابی نصیب ہوتی ہے۔
📿 *دین اسلام کی مکمل پیروی واجب ہے:*
یہ حقیقت سمجھ لینی چاہیے کہ ہر مسلمان کے ذمے نظریاتی اور عملی طور پر دین اسلام کی مکمل پیروی واجب ہے، اور کامل اتباع کا تقاضا یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات پر مکمل عمل پیرا ہوتے ہوئے اُن تمام نظریات اور اعمال سے برأت کا اعلان کیا جائے جو اسلامی تعلیمات سے متصادم اور ان کے خلاف ہیں۔دینی تعلیمات کے ساتھ ساتھ غیر شرعی امور کی کسی بھی درجے میں رعایت اللہ تعالیٰ کے ہاں ہرگز قبول نہیں۔
☀ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم سورت بقرہ آیت نمبر 208 میں فرمایا ہے کہ:
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوَاتِ الشَّيْطٰنِۚ اِنَّہٗ لَكُمْ عَدُوٌّمُّبِيْنٌ.
▪️ *ترجمہ:* ’’اے ایمان والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ، اور شیطان کے نقشِ قدم پر نہ چلو، یقین جانو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔‘‘ (آسان ترجمہ قرآن)
اس آیت کے شانِ نزول اور پسِ منظر پر بھی غور کرلیا جائے تو مزید بات واضح ہوگی کہ حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ علمائے یہود میں سے تھے، اسلام قبول کرنے کے بعد انھوں نے سوچا کہ یہودی مذہب میں ہفتے کی تعظیم ضروری ہے اور اونٹ کا گوشت ممنوع ہے جبکہ اسلام میں ہفتے کے دن کی بے تعظیمی واجب نہیں اور اونٹ کا گوشت کھانا بھی واجب نہیں تو اگر میں ہفتے کے دن کی تعظیم کرلیا کروں اور اونٹ کا گوشت کھانا چھوڑ دوں تو دین محمدی کے ساتھ ساتھ یہودی مذہب پر بھی عمل ہوجائے گا، تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس میں فرمایا کہ اے ایمان والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے نقشِ قدم پر نہ چلو، یقین جانو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ جس سے اللہ تعالیٰ نے حضرت عبد اللہ بن سلام کے اس خیال کی تردید فرمائی اور یہ واضح فرما دیا کہ دین اسلام کی مکمل پیروی واجب ہے، اس کے ساتھ ساتھ اُن تمام نظریات اور اعمال سے بالکلیہ برأت ضروری ہے جو کسی بھی درجے میں اسلامی تعلیمات سے متصادم اور ان کے خلاف ہوں۔
غور کیجیے کہ اللہ تعالٰی نے دینِ اسلام کے ساتھ ساتھ دیگر ادیان کی ذرا بھی پیروی اور رعایت گوارہ نہیں فرمائی تو جو مسلمان کرسمس جیسی خالص عیسائی مذہبی تہوار مناتے ہیں، اس میں شرکت کرتے ہیں یا اس کی مبارکباد دیتے ہیں تو یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کیسے درست ہوسکتا ہے! مسلمان اگر صرف اس پہلو پر بھی غور کریں تو ان کے دل میں کرسمس جیسی غیر مسلموں کی مذہبی تہواروں سے نفرت پیدا ہوجاتی ہے۔
📿 *کرسمس کی مبارکباد دینے اور اس میں شرکت کا حکم:*
ذیل میں کرسمس میں شرکت اور اس کی مبارکباد دینے سے متعلق چند فتاویٰ ذکر کیے جاتے ہیں تاکہ اس کا شرعی حکم معلوم ہوسکے اور مسلمان اس سے اجتناب کرسکے۔ ملاحظہ فرمائیں:
⬅️ *فتویٰ جامعہ دار العلوم کراچی:*
’’کرسمس ہو یا دیوالی یا غیر مسلموں کی کوئی بھی مذہبی عید یا تہوار ہو؛ مسلمانوں کے لیے اس میں حاضر ہونا، ان کے جلسوں، محفلوں میں شرکت کرنا، یا ان کی عبادت گاہوں میں جانا اور ان کے ساتھ شرکت کرنا ہرگز جائز نہیں ہے، اسی طرح اس موقع پر ان کو اس تہوار کی تعظیم کی خاطر مبارکباد دینا یا ان کو ہدایا دینا جائز نہیں، بلکہ اگر اس سے ان کے دین کی تعظیم مقصود ہو تو اس میں کفر کا قوی اندیشہ ہے، بلکہ بعض مشایخ نے ایسے شخص کو کافر فرمایا ہے، لہٰذا مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ کرسمس وغیرہ میں نصاریٰ کے ساتھ یکجہتی یا محبت کی غرض سے شرکت سے مکمل اجتناب کریں، ورنہ سخت گناہ ہوگا اور اس میں کفر کا بھی قوی اندیشہ ہے، تاہم اگر ان جلسوں اور محفلوں میں شریک نہ ہو اور نہ ہی ان کی عبادت گاہ میں حاضری ہو اور نہ ہی دل میں ان کی تعظیم مقصود ہو اور مبارکباد نہ دینے سے اسلام یا مسلمانوں سے تنَفُّر کا اندیشہ ہو تو صرف مبارکباد کے طور پر خوشی کے ایسے کلمات کہہ دیے جائیں جو اس دن کی تعظیم پر مشتمل نہ ہوں تو اس کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔‘‘
(فتویٰ نمبر: 1693/ 29)
⬅️ *فتویٰ جامعہ دارالعلوم کراچی:*
’’عیسائیوں کے ساتھ کرسمس میں شریک ہونا یا انھیں اس پر مبارکباد دینا ہرگز جائز نہیں، اس لیے کہ نصاریٰ اس دن کو حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کی پیدائش کی مناسبت سے تعظیمًا مذہبی تہوار کے طور پر مناتے ہیں اور کفار جو دن اپنے مذہب کے شعائع کے طور پر تعظیمًا مناتے ہوں اس میں مسلمانوں کی شرکت اور ان کی مشابہت اختیار کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ اگر اس سے ان کے دین کی تعظیم مقصود ہو تو اس میں کفر کا قوی اندیشہ ہے۔
لہٰذا مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ کرسمس میں شرکت اور نصاریٰ کو مبارکباد دینے سے مکمل اجتناب کریں ورنہ سخت گناہ گار ہوں گے اور اگر یہ کام ان کے دین کی تعظیم کے طور پر ہو تو اس میں کفر کا اندیشہ ہے، تاہم اگر کسی ایسے مقام اور ملک میں جہاں عیسائیت کی اکثریت ہو اور وہاں اگر کرسمس میں شریک نہ ہونے یا انھیں ظاہری طور پر مبارکباد نہ دینے میں دینی یا دنیوی نقصان کا اندیشہ ہو تو مجبوری میں نقصان سے بچنے کے لیے صرف ظاہری طور پر شرکت یا ہیپی کرسمس کہہ کر جان چھڑالی جائے تو امید ہے کہ گناہ نہ ہوگا بشرطیکہ دل میں ان کے اس دن کی محبت اور تعظیم بالکل نہ ہو۔‘‘
(فتویٰ نمبر: 1520/ 87)

0 Comments